Marrying A Christian Woman

Aug 16, 2026 | Marriage And Divorce

QUESTION:

A man wishes to marry a staunch Christian woman. The woman does not drink alcohol nor does she consume pork, but she does believe in the trinity. The man is trying to convince her to revert to Islam but she is trying to convert him to Christianity, as she believes that he needs saving. Should he marry such a woman?

ANSWER:

Our Ulama have discouraged and dislike marrying Christians due to the negative impact it can have on the Nikaah, such as the Tarbiyah of the children amongst other evils. Furthermore, the Christians in our era are not practising upon the true religion and their Bible has been fabricated. In fact, many of them do not even believe in Allah Ta’ala and they are atheists. Hence, we strongly advise against it.

کتابیات سے نکاح کا حکم:
سوال:
کتابیات جن سے نکاح جائز ہے آج کل کس جماعت میں شامل ہے؟ اور کیا حکم ہے؟

جواب:
موجودہ زمانہ کے اہل کتاب کے ساتھ نکاح مکروہ ہے، اگر چہ نفس جواز کا انکار نہیں، لیکن ان کے اندر زنا، فحاشی اور ناجائز تعلقات کی اتنی کثرت ہے کہ جس کو سن کر انسانیت کی پیشانی پر پسینہ آ جاتا ہے اور جس نے گویا حیوانوں کو بھی پس پشت ڈال دیا ہے ۔ اس لیے عدم نکاح اولیٰ اور افضل ہے ۔ نیز کتابیات سے وہ مراد ہیں جو دین سماوی کا انکار نہیں کرتے، ہاں جو انکار کرتے ہیں ان کے ساتھ نکاح بالکل حرام ہے ۔

حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ تعالی عنہ نے یہ نکاح ناپسند فرمایا اور طلاق دینے کا حکم دیا ۔

ملاحظہ فرمائیں مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے:

عن شقيق قال: تزوج حذيفة رضي الله تعالى عنه يهودية، فكتب إليه عمر رضي الله تعالى عنه: أن خل سبيلها، فكتب إليه: إن كانت حراماً فخليت سبيلها، فكتب إليه: إني لا أزعم أنها حرام، ولكني أخاف أن تعاطوا المومسات منهن. (مصنف ابن أبي شيبة: ۹/۸۵/۱٦٤۱۷، باب من كان يكره النكاح في أهل الكتاب، المجلس العلمي). وأخرج الطبراني برواية ابن عباس رضي الله تعالى عنه قال: وقد نكح طلحة بن عبد الله رضي الله تعالى عنه يهودية ونكح حذيفة بن اليمان رضي الله تعالى عنه نصرانية فغضب عمر رضي الله تعالى عنه غضباً شديداً حتى هم أن يسطو عليها، فقالوا: نحن نطلق ولا تغضب، فقال عمر رضي الله تعالى عنه: لئن حل طلاقهن حل نكاحهن، ولكن لننزعن صفرة قماة. (رواه الطبراني في الكبير: ۱۲/۱۳۰۱۳، مكتبة العلوم والحكم). نیز دیگر آثار بھی کراہت پر دلالت کرتے ہیں ۔ ملاحظہ ہو :

عن عبد الملك قال: سألت عطاء عن نكاح اليهوديات والنصرانيات؟ فكرهه، وقال: كان ذلك والمسلمات قليل. وعن نافع عن ابن عمر رضي الله تعالى عنه أنه كان يكره نكاح نساء أهل الكتاب، ولا يري بطعامهن بأساً. وعن ميمون بن مهران، عن ابن عمر رضي الله تعالى عنه أنه كره نكاح نساء أهل الكتاب وقرأ: ﴿ولا تنكحوا المشركات حتى يؤمن﴾. (مصنف ابن أبي شيبة: ۹/۸۵، من كان يكره النكاح في أهل الكتاب، المجلس العلمي).

فتاوی عالمگیری میں ہے:

ويجوز للمسلم نكاح الكتابية الحربية والذمية حرة كانت أو أمة كذا في محيط السرخسي، والأولى أن لا يفعل وكل من يعتقد ديناً سماوياً وله كتاب منزل كصحف إبراهيم عليه السلام وشيث عليه السلام وزبور داود عليه السلام فهو من أهل الكتاب فتجوز مناكحتهم. (الفتاوى الهندية: ۱/۲۸۱).
شیخ الاسلام حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی رحمه الله تحریر فرماتے ہیں:

اہل کتاب کے ایک مخصوص حکم کے ساتھ دوسرا مخصوص حکم بھی بیان فرما دیا، یعنی یہ کہ کتابی عورت سے نکاح کرنا شریعت میں جائز ہے، مشرکہ سے اجازت نہیں، ﴿ولا تنكحوا المشركات حتى يؤمن﴾، (البقرة: ركوع ۲۷)

مگر یہ یا د رہے کہ ہمارے زمانہ کے “نصاریٰ” عموماً برائے نام نصاریٰ ہیں ان میں بکثرت وہ ہیں جو نہ کسی کتاب آسمانی کے قائل ہیں نہ خدا کے، ان پر اہل کتاب کا اطلاق نہیں ہو سکتا، لہذا ان کے ذبیحہ اور نساء کا حکم اہل کتاب کا سا نہ ہوگا، نیز یہ ملحوظ رہے کہ کسی چیز کے حلال ہونے کے معنی یہ ہیں کہ اس میں فی حد ذاتہ کوئی وجہ تحریم کی نہیں، لیکن اگر خارجی اثرات و حالات ایسے ہوں کہ اس حلال سے منتفع ہونے میں بہت سے حرام کا ارتکاب کرنا پڑتا ہے بلکہ کفر میں مبتلا ہونے کا احتمال ہو تو ایسے حلال سے انتفاع کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔ موجودہ زمانہ میں یہود و نصاریٰ کے ساتھ کھانا پینا، بے ضرورت اختلاط کرنا، ان کی عورتوں کے جال میں پھنسنا، یہ چیزیں جو خطرناک نتائج پیدا کرتی ہیں وہ مخفی نہیں، لہذا بدی اور بد دینی کے اسباب و ذرائع سے اجتناب ہی کرنا چاہیے ۔ (تفسیر عثمانی سورۃ المائدۃ: الآیۃ: ۵، ص ۱٤۲، رقم الحاشیۃ ۱۲؎) ۔

مزید ملاحظہ فرمائیں: فتاوی محمودیہ: ۱۱/٤۵۰ ۔ ٤۵۴، مبوب و مرتب ۔ و جدید فقہی مسائل: ۱/۲۸۳ و امداد الفتاوی: ۲/۲۱۳) ۔

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

ALLAH TA’ALA ALONE IN HIS INFINITE KNOWLEDGE KNOWS BEST!

ANSWERED BY:

Mufti Abdul Kader Fazlani

Date: 22 Safar 1448 / 06 August 2026

CHECKED AND APPROVED BY:

Mufti Yacoob Vally Saheb

 

 

Categories