Allah Ta’ala is The Creator of Everything

Sep 2, 2025 | Aqeedah

QUESTION:

We understand that all occurrences are by the will of Allah Ta’ala for example, poverty, sickness, etc., but please elaborate on the creation of serious vices such as murder and sexual crimes?

ANSWER:

It is from the fundamental beliefs of Ahlus Sunnah Wal Jama’ah that all things which occur in the universe, whether good or evil, are by the decree and creation of Allah Ta’ala. Nothing comes into existence outside His will and power.

Imaam Abu Ja’far al-Tahawi Rahimahullah mentions in Al-Aqeeda Al-Tahawiyyah:

Everything runs according to His decree and will. His will is always carried out. There is no will for the servants except what He wills for them; whatever He wills for them happens, and whatever He does not will, does not happen.”

From this, it is understood that sickness, poverty, pain in relationships, as well as more serious matters such as murder, oppression, and shameful crimes, all occur only because Allah Ta’ala allowed their existence within His creation.

However, it is important to distinguish between two matters: Allah Ta’ala’s universal will, and His legislative will. By His universal will, everything comes into existence, including sin and crime. Yet by His legislative will, Allah Ta’ala commands and is pleased with righteousness, goodness and obedience, and He does not approve of disbelief, injustice or oppression.

Thus, when heinous crimes such as murder or sexual violations occur, they do so by Allah Ta’ala’s decree, in the sense that, nothing lies outside His creation, yet Allah Ta’ala is completely free of being pleased with such acts or commanding them.

At the same time, human beings are not absolved of responsibility. The Hanafi–Maturidi creed explains that, although Allah Ta’ala is the sole Creator of all acts, man “acquires” (Kasb) his deeds by the exercise of his choice and intention. For this reason, reward and punishment are justly assigned to the servant.

This balance is affirmed in the Quraan, where Allah Ta’ala says:

وَاللَّهُ خَلَقَكُمْ وَمَا تَعْمَلُونَ

“Allah created you and what you do.”

Surah As-Saffaat: 96

And He says:

وَمَا تَشَاءُونَ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ اللَّهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ

“You do not will except that Allah, the Lord of the worlds, wills.”

Surah Takweer: 29

The wisdom in Allah  Ta’ala allowing such harms to exist includes the testing of mankind’s free will, the establishment of justice on the Day of Judgement, and the reminder that this world is not a place of final reward, but a place of trial. In this life, the Shari’ah prescribes severe punishments for such crimes, such as Qisaas for murder and Hadd or Ta’zir for sexual crimes, and in the Hereafter, the oppressor will be punished unless forgiven, while the victim will be fully compensated.

In conclusion, all things, even serious crimes, occur by the decree and creation of Allah Ta’ala. However, Allah Ta’ala is never pleased with oppression or sin, nor does He command them. The servant who commits such an act does so by his choice and is, therefore, fully responsible before Allah Ta’ala. Justice will be established either in this world, or in the next.

  العقيدة الطحاوية (ط ابن حزم) (ص:11)

كُلُّ شَيْءٍ يَجْرِي بِتَقْدِيرِهِ وَمَشِيئَتِهِ، وَمَشِيئَتُهُ تَنْفُذُ، لَا مَشِيئَةَ لِلْعِبَادِ إِلَّا مَا شَاءَ لَهُمْ، فَمَا شَاءَ لَهُمْ كَانَ وَمَا لَمْ يَشَأْ لَمْ يَكُنْ

  عقائد الإسلام (مولانا ادريس كاندهلوي)

حق تعالی شانہ خالق خیر بھی ہیں اور خالق شر بھی ، وہ خیر و شر دونوں ہی کا پیدا کرنے والا ہے لیکن خیر سے راضی اور شر سے راضی نہیں نور اور ظلمت، طہارت اور نجاست ، ملائکہ (فرشتے) اور شیاطین نیک اور بد سب اس کے پیدا کئے ہوئے ہیں مگر نیکوں سے راضی ہے اور بدوں سے ناراض ۔ ارادہ اور رضا کے درمیان یہ بڑا دقیق فرق ہے جس کی طرف اللہ تعالٰی نے اہل سنت والجماعت کو ہدایت فرمائی ۔ باقی دوسرے فرقے اس فرق کی طرف ہدایت نہ پانے کی وجہ سے گمراہ ہوئے۔ اور خنزیروں کو پیدا کرنے والا) ہرگز ہرگز نہ کہنا چاہئے۔ حق تعالی کی پاک جناب میں ایسا لفظ کہنا بے ادبی اور گستاخی ہے۔

خلاصہ یہ کہ جس طرح بندے حق تعالیٰ کی مخلوق ہیں اسی طرح بندوں کے افعال بھی حق تعالیٰ کی مخلوق ہیں۔ البتہ بندے کے بعض افعال اختیاری ہیں جو خداداد ارادہ اور اختیار سے صادر ہوتے ہیں اور بعض افعال اضطراری ہیں جن میں بندے کے ارادہ اور اختیار اور خواہش اور رغبت کو دخل نہیں ہوتا جیسے رعشہ والے کا ہاتھ خود بخود حرکت کرتا ہے اس حرکت میں متحرک کے تصور اور شوق اور رغبت اور خواہش کو کوئی دخل نہیں اس لئے اس حرکت کو فعل اضطراری کہیں گے اور جو فعل تصور اور طبعی شوق و رغبت یا طبعی نفرت اور کراہت کے بعد صادر ہو اس کو فعل اختیاری کہتے ہیں جیسے محبت میں مصافحہ کے لئے ہاتھ بڑھانا اور غصہ کی حالت میں کسی کے مارنے کے لئے ہاتھ اٹھانا، یہ اختیاری فعل ہے۔

جس طرح بندہ خدا کی دی ہوئی آنکھوں سے دیکھتا ہے اور خدا کے دیئے ہوئے کانوں سے سنتا ہے اسی طرح خدا کی دی ہوئی قدرت اور اختیار سے کچھ کام کرتا ہے یہ تمام افعال اگر چہ خدا تعالیٰ کے مخلوق ہیں اور اس کی قدرت اور ارادہ سے سرزد ہوتے ہیں لیکن چونکہ یہ افعال اختیاری ہیں اس لئے بندہ اپنے اختیار سے جو نیک کام کرے گا اس پر اجر اور سے ثواب پائے گا، اور جو برا کام کرے گا اس پر اس کو سزا ملے گی۔ معتزلہ اور قدر یہ خود بندہ کو اپنے افعال کا خالق اور موجد اور فاعل مستقل بتاتے ہیں۔ اور جبر یہ کہتے ہیں کہ بندہ میں نہ قدرت ہے اور نہ قصد اور اختیار ہے بندہ کی حرکات اور سکنات شجر اور حجر کی حرکات و سکنات کی طرح ہیں ان کا گمان یہ ہے کہ بندوں کو خیر پر ثواب تو ملے گا مگر برے افعال پر کوئی مواخذہ اور عذاب نہ ہوگا اور کافر اور عاصی سب معذور ہیں ان سے کچھ نہیں پوچھا جائے گا۔

اہل سنت و الجماعت یہ کہتے ہیں کہ یہ دونوں باتیں غلط ہیں قدریہ اور معتزلہ کی بات تو اس لئے غلط ہے کہ بندہ میں خالق بنے کی صلاحیت ہی نہیں ممکن اور حادث کا خالق اور فاعل مستقل بنا ناممکن اور محال ہے نیز خدائے وحدہ لاشریک لہ کی ذات اس سے منزہ ہے کہ اس کی خالقیت میں کوئی اس کا شریک ہو اور وہ اکیلا پیدا کرنے سے عاجز ہو۔ کما قال تعالیٰ:

أَمْ جَعَلُوا للَّهِ شُرَكَاءَ خَلَقُوا كَخَلْقِهِ فَتَشَابَهَ الْخَلُقُ عَلَيْهِمْ قُلِ اللَّهِ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ وَهُوَ الْوَاحِدُ الْقَهَّارِ (1)

انسان کی مجبوری کا تو یہ عالم ہے کہ میم کا تلفظ حلق سے اور عین کا تلفظ نشتین سے نہیں کر سکتا تو پھر اس عجز ظاہر کے ساتھ اپنے افعال کے خالق ہونے کا کیسے مدعی بن گیا اور جبریہ کی بات اس لئے غلط ہے کہ بداہت عقل اور بداہت جس کے خلاف ہے اس لئے کہ تمام عقلاء اس بات پر متفق ہیں کہ افعال کی دو قسمیں ہیں، اختیاری اور غیر اختیاری اور اس پر بھی متفق ہیں کہ جو اپنے اختیار سے اچھا کام کرے گا اس کو انعام ملے گا اور جو اپنے اختیار سے برا کام کرے گا اس کو سزا ملے گی۔ فرقہ جبریہ اس تقسیم کا منکر ہے اس کے نزدیک تمام افعال اضطراری ہیں کوئی فعل اختیاری نہیں۔

حکومت کے وفاداروں اور جان بازوں اور سرفروشوں کو انعام ملے گا اور حکومت کے باغیوں کو پھانسی یا حبس دوام کی سزا ملے گی اور چوروں اور بدکار لوگوں کو چند روزہ جیل خانہ بھگتنا پڑے گا اگر افعال اختیار یہ پر دنیا میں کوئی جزاء وسزا مرتب نہ ہوا کرے تو کارخانہ عالم درہم و برہم ہو جائے ۔ پس اگر دنیا کی مجازی حکومت کی اطاعت اور معصیت پر جزا وسزا کا ترتب عین حکمت اور عین معدلت ہے تو احکم الحاکمین کی اطاعت اور معصیت پر جزاء اور سزاء کے ترتب میں کیوں اشکال ہے۔ اگر کوئی چور چوری کر کے پکڑا جائے اور کہنے لگے کہ میں مجبور محض ہوں مجھ کو کیوں سزا دیتے ہیں تو اس عذر لنگ کا جواب یہ ملے گا کہ تم جھوٹ بولتے ہو کہ میں مجبور محض تھا اگر مجبور ہوتے تو گھر سے باہر ہی نہ نکلتے ۔ اندھیری رات میں نکل کر کسی کے مکان کا قفل توڑنا یا دروازہ اکھاڑنا یا نقب لگانا کیا یہ کسی مجبور اور عاجز کا کام ہے۔ بندہ اگر مجازی حکومت کے احکام کا مکلف ہو سکتا ہے تو حاکم حقیقی کے احکام شریعت کامکلف کیوں نہیں ہو سکتا ۔ اہل سنت والجماعت یہ کہتے ہیں کہ یہ دونوں راہیں تو غلط ہیں یعنی اختیار مستقل اور جبر محض کا دعوی عقل اور نقل کے خلاف ہے۔ صراط مستقیم وہ راستہ ہے کہ جو اس افراط اور تفریط کے درمیان ہے وہ یہ کہ بندہ نہ تو مجبور محض ہے اور نہ فاعل مستقل ہے بلکہ جبر اور قدر کے بین بین ہے اور عقل بھی یہی حق ہے اس لئے کہجری کا قول کہ بندہ مجبور محض ہے اور قصد اور اختیار سے عاری ہے بداہت اور مشاہدہ کے خلاف ہے کون نہیں جانتا کہ انسان میں اختیار اور ارادہ کی صفت موجود ہے۔ ہر شخص جانتا ہے کہ میری حرکات و سکنات پتھر کی حرکات و سکنات کی مانند نہیں۔ پتھر کی حرکت بلا اختیار ہے اور میری آمد و رفت اختیار سے ہے جب یہ ثابت ہو گیا کہ بندہ میں ارادہ اور اختیار ہے تو اب اس میں دو احتمال ہیں کہ بندہ کا ارادہ اور اختیار بالکل مستقل ہے اور اس درجہ مستقل ہے کہ انسان کے کفر اور ایمان میں اللہ تعالیٰ کے ارادہ اور مشیت کا کوئی دخل نہیں یہ مذہب قدریہ کا ہے۔ دوسرا احتمال یہ ہے کہ بندہ میں ارادہ اور اختیار تو ہے مگر وہ اختیار مستقل نہیں بلکہ اللہ کے ارادہ اور اس کے اختیار اور اس کی مشیت کے ماتحت ہے یہ مذہب اہل سنت کا ہے اور عقلاً و نقدام یہی حق ہے اس لئے کہ بندہ میں ایسے اختیار مستقل کا ہونا محال ہے کہ جو خدا تعالیٰ کے ماتحت نہ ہو۔ جب بندہ کا وجود اور اس کے تمام اخلاق اور صفات ہی مستقل نہیں بلکہ سب اللہ کی قدرت اور مشیت کے ماتحت ہیں تو بندہ کی صفت قدرت و اختیار کہاں سے مستقل ہو سکتی ہے۔ قال تعالی :

و َمَا تَشَاؤُنَ إِلَّا أَنْ يُشَاءَ اللَّهُ رَبُّ الْعَالَمِين.

یعنی تم کسی چیز کا ارادہ اور خواہش نہیں کر سکتے جب تک اللہ رب العالمین کی مشیت نہ ہو۔ معلوم ہوا کہ بندہ میں مشیت اور ارادہ ہے مگر اللہ تعالیٰ کی مشیت اور ارادہ کے ماتحت ہے، اسی وجہ سے اہل سنت کہتے ہیں کہ انسان جبر اور اختیار کے درمیان میں ہے۔ من وجہ مختار ہے، اس لئے کہ افعال کو اختیار اور ارادہ سے کرتا ہے۔ مجبور محض نہیں مگر اس اختیار میں مختار نہیں ۔ جس طرح انسان اپنے اختیار سے سنتا اور دیکھتا ہے مگر سمع اور بھر اس کی اختیاری نہیں اسی طرح انسان اپنے افعال میں مختار ہے مگر اس اختیار میں مختار نہیں بلکہ مجبور ہے بندہ اس خدا داد اختیار سے جو فعل کرتا ہے اس کو اصطلاح شریعت میں کسب کہتے ہیں۔افعال کا خالق اور موجد حق تعالیٰ ہے اور بندہ اپنے افعال کا کا سب اور فاعل اور عامل ہے اور جزاء وسزاء کے مرتب ہونے کے لئے یہی کسب کافی ہے اور ضعیف کے لئے اختیار ضعیف ہی مناسب ہے اختیار مستقل اور کامل تو خالق کے مناسب ہے مخلوق کے مناسب نہیں۔ قدریہ اور اہل سنت میں بس یہی فرق ہے کہ قدر یہ بندہ کے لئے اختیار مستقل ثابت کرتے ہیں اور ہم اہل سنت غیر مستقل اختیار ثابت کرتے ہیں اور جبر محض اور اختیار مستقل کے درمیان امر متوسط اور امر معتدل یہی اختیار غیر مستقل ہے جس کو اصطلاح شریعت میں کسب اور عمل کہتے ہیں۔ قرآن کریم میں حق تعالی نے ہر جگہ خلق کو اپنی طرف منسوب کیا ہے اور کسب اور عمل کو بندہ کی طرف منسوب کیا ہے۔

وَاللَّهُ خَلَقَكُمْ وَ مَا تَعْمَلُونَ (1)

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے خلق کو اپنی طرف اور عمل کو بندوں کی طرف منسوب فرمایا اس میں شک نہیں کہ بندہ کا ہر فل اللہ کے علم اور ارادہ سے صادر ہوتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے کہ بندہ ہراس کے بندہ کو بھی کچھ اختیار اور قدرت کی صفت عطا کی ہے جس سے بندہ اپنے ارادہ اور اختیار سے فعل کر سکے جس طرح دنیا میں بندہ کے اختیاری افعال پر جزاء وسزاء کا ملنا حق ہے اسی طرحآخرت میں جزاء وسزا کا ملنا بھی حق ہے۔

ALLAH TA’ALA ALONE IN HIS INFINITE KNOWLEDGE KNOWS BEST!

ANSWERED BY:

Mufti Abdur Rahmaan Abdur Razak

Date: 07 Rabi-ul-Awwal 1447 / 31 August 2025

CHECKED AND APPROVED BY:

Mufti Yacoob Vally Saheb

 

Categories