Performing Sa’ee Before Tawaaf-uz-Ziyaarah

May 21, 2025 | Hajj

QUESTION:

My wife was 8 months pregnant when we performed Hajj. Due to her condition, we were advised to perform Sa’ee for Tawaaf-uz-Ziyaarah before Hajj. I performed the Sa’ee with her, but without being in the state of Ihraam. Please advise if this was correct?

ANSWER:

Fuqahaa have stated in the Kitaabs of Fiqh that there is concession to perform one’s Sa’ee before Tawaaf-uz-Ziyaarah. However, the condition is that it must be performed in the state of Ihraam. If one does not perform the Sa’ee in the state of Ihraam, one will be omitting one of the conditions of Sa’ee, which will result in the Sa’ee not being valid. This will then necessitate a Damm.

وأما وقته فوقته الأصلي يوم النحر بعد طواف الزيارة لا بعد طواف اللقاء؛ لأن ذلك سنة، والسعي واجب فلا ينبغي أن يجعل الواجب تبعا للسنة ‘ فأما طواف الزيارة ففرض، والواجب يجوز أن يجعل تبعا للفرض إلا أنه رخص السعي بعد طواف اللقاء، وجعل ذلك، وقتا له ترفيها بالحاج، وتيسيرا له لازدحام الاشتغال له يوم النحر فأما وقته الأصلي فيوم النحر عقيب طواف الزيارة لما قلنا، والله أعلم.

(بدائع الصنائع 2/135)

ولو طاف تطوعا في إحرام الحج وسعى بعده لم يجب عليه السعي في طواف الزيارة واعلم أن السعي هو بعد هذا الطواف لأنه واجب والواجب يترتب بعد الفرض لكن لما كان هذا يوم فيه جمع من المناسك رخص في تقديمه بعد طواف القدوم تيسيرا ومن شرط تقديمه مع طواف القدوم أن يكون في أشهر الحج (الجوهرة النيرة 1/160)

احرام حج یا عمرہ کا سعی پر مقدم ہونا۔ اگر کوئی شخص احرام سے پہلے سعی کرے گا تو صحیح نہ ہوگی اگر چہ طواف کے بعد ہو اور إحرام کا باقی رہنا سعی تک ضروری نہیں بلکہ اس میں یہ تفصیل ہے کہ اگر حج کا سعی کرتا ہے اور وقوف عرفہ سے پہلے کرہے تو احرام کا ہونا سعی کے وقت شرط ہے۔

(معلم الحجاج   ص 152)

سعی کی شرائط:

 1)خود سعی کرنا ، اگر چہ کسی کے تعاون یا سواری کے ذریعے کیوں نہ ہو۔

2)صفا سے شروع کرنا اور مروہ پر ختم کرنا۔

3)سعی کا اکثر حصہ یعنی چار چکر لگانا ۔

4) اگر سعی وقوف عرفہ سے پہلے ہو تو شرط یہ ہے کہ سعی کرنے والا احرام کی حالت میں ہو، البتہ اگر طواف زیارت کے بعد ہوتو پھر احرام شرط نہیں۔

5) طواف یا طواف کے اکثر حصے ( چار چکر ) کے بعد سعی کرنا۔

 6) اگر سعی حج کے لیے ہو تو وقت ، یعنی ایام حج کا داخل ہونا بھی شرط ہے، تاہم ایام حج کا باقی رہنا شرط نہیں ۔ ایام حج کے بعد بھی سعی ہو سکتی ہے، اگر چہ مکروہ ہے

(فتاوی عثمانيہ 4/292)

شرائط صحت سعی:

مسئله  ۵ طواف کا سعی سے پہلے ادا کرنا صحت سعی کے لئے شرط ہے۔ خواہ پورا طواف یا اکثر چکر ادا کئے ہوں۔ کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے پہلے طواف کیا اور اس کے بعد سعی کی تھی۔ سعی طواف کے تابع ہے اور آپ نے فرمایا، خُذُوا عَنّى مَنَاسِكَكُمْ. (بدائع الصنائع ج ۲ ص ۱۳۴)

مسئلہ : حج یا عمرہ کا احرام سعی پر مقدم ہونا ۔

(شرح اللباب ص ۱74)

مسئلہ : عمرہ کی سعی احرام کی حالت میں کرنا واجب ہے۔ (لباب ص ۱۷۸)

(عمدۃ الناسک ص 406)

حكم واجبات الحج:

وكل ما هو واجب فحكمه وجوب الدم بتركه بلاعذر وجواز الحج سواء تركه عمدا أو سها أو خطأ أو جاهلا أو عالما لكن العامد آثم. (غنية الناسك ص83)

ALLAH TA’ALA ALONE IN HIS INFINITE KNOWLEDGE KNOWS BEST!

ANSWERED BY:

Mufti Abdul Kader Fazlani

Date: 21 Dhul Qa’dah 1446 / 20 May 2025

CHECKED AND APPROVED BY:

Mufti Yacoob Vally Saheb

 

Categories