Waqf Queries
My question is regarding funds derived from Waqf. In our town we have a board of trustees who coordinate the running of our Masaajid, welfare and Waqf properties. So, the trust will basically be responsible for Jami Masjid, Residential Masjid, Welfare organisation, Qabrastaan maintenance, Education and Waqf properties, etc. Bear in mind that all Waqf properties and income is handled centrally by one subcommittee.
1. If a Waaqif makes a property or other as Waqf, for example, the Jami Masjid [the intention of the Waaqif being that this property or funds therefrom, is Waqf for Jami Masjid], will it be correct thereafter to utilize the funds obtained from this Waqf for any of the other branches such as, welfare, charity or another Masjid besides the Jami Masjid?
1. No, once the Waaqif (Donor) has stipulated that the Waqf funds must be utilized in a specific Masjid, it will be necessary to abide by that and utilize it in that specific Masjid. However, if after paying the expenses of the town Masjid there is a surplus amount leftover, then that may be utilized in the other Masaajid which are under the same committee.
2. If there are sufficient funds to cover all the running expenses, will it be correct to continue collecting funds and saving a portion for future developments?
2. If there are sufficient funds for the running expenses,and currently there is no need for any future developments, then one should not collect extra funds unnecessarily.
3. If the Waaqif gave funds for educational purposes and these expenses are not being met, can the trustees put a cap on their monthly allocation stating that the shortfall must be obtained through other means?
3. No, if the Waaqif gave funds for educational purposes, then all the funds must be utilized for that specific purpose. Furthermore, as stated above, if after utilizing the funds for educational purposes, there is a surplus amount leftover, then that may be utilized in the other projects/places which are under the same committee.
4. Can a Waqf property given for the Masjid, be developed and utilized for welfare and Madrassah use if:
4.1. A nominal fee is paid monthly to the Masjid?
4.2. No rental is charged?
4.3. Other developments on the property besides welfare and education will secure a rental income towards the Masjid?
4. If the Madrassah and other projects are under the same organization as the Masjid, then yes, the property which was made Waqf to the Masjid may be used for other purposes, with or without any charge.
5. How do we dispose of old chairs, appliances, fixtures and fittings, Quraans , Kitaabs, Musallahs, etc. that were part of the Masjid Waqf, but have since been replaced?
5. The old items should be sold and the money received should be then utilized for the Masjid.
شرط الواقف كنصّ الشارع (الدر المختار 4/433(
وفي الدرر وقف مصحفا على أهل مسجد للقراءة إن يحصون جاز وإن وقف على المسجد جاز ويقرأ فيه
قال العلامة ابن عابدين رحمه الله: قوله ( ولا يكون محصورا على هذا المسجد ) فإن ظاهره أنه يكون مقصورا على ذلك المسجد وهذا هو الظاهر حيث كان الواقف عين ذلك المسجد (الدر المختار و حاشية ابن عابدين 4/365)
انهم صرحوا بان مراعاة غرض الواقفين واجبة (الدر المختار و حاشية ابن عابدين 2/665)
وَنُقِلَ فِي الذَّخِيرَةِ عَنْ شَمْسِ الْأَئِمَّةِ الْحَلْوَانِيِّ أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ مَسْجِدٍ أَوْ حَوْضٍ خَرِبَ، وَلَا يَحْتَاجُ إلَيْهِ لِتَفَرُّقِ النَّاسِ عَنْهُ هَلْ لِلْقَاضِي أَنْ يَصْرِفَ أَوْقَافَهُ إلَى مَسْجِدٍ أَوْ حَوْضٍ آخَرَ: فَقَالَ: نَعَمْ وَمِثْلُهُ فِي الْبَحْرِ عَنْ الْقُنْيَةِ وُلِلشُّرُنْبُلَالِيِّ رِسَالَةٌ فِي الْمَسْأَلَةِ اعْتَرَضَ فِيهَا مَا فِي الْمَتْنِ تَبَعًا لِلدُّرَرِ بِمَا مَرَّ عَنْ الْحَاوِي وَغَيْرِهِ، ثُمَّ قَالَ وَبِذَلِكَ تُعْلَمُ فَتْوَى بَعْضِ مَشَايِخِ عَصْرِنَا بَلْ وَمَنْ قَبْلَهُمْ كَالشَّيْخِ الْإِمَامِ أَمِينِ الدِّينِ بْنِ عَبْدِ الْعَالِ وَالشَّيْخِ الْإِمَامِ أَحْمَدَ بْنِ يُونُسَ الشَّلَبِيِّ وَالشَّيْخِ زَيْنِ بْنِ نُجَيْمٍ وَالشَّيْخِ مُحَمَّدٍ الْوَفَائِيِّ فَمِنْهُمْ مَنْ أَفْتَى بِنَقْلِ بِنَاءِ الْمَسْجِدِ، وَمِنْهُمْ مَنْ أَفْتَى بِنَقْلِهِ وَنَقْلِ مَالِهِ إلَى مَسْجِدٍ آخَرَ، وَقَدْ مَشَى الشَّيْخُ الْإِمَامُ مُحَمَّدُ بْنُ سِرَاجِ الدِّينِ الْحَانُوتِيُّ عَلَى الْقَوْلِ الْمُفْتَى بِهِ مِنْ عَدَمِ بِنَاءِ الْمَسْجِدِ، وَلَمْ يُوَافِقْ الْمَذْكُورِينَ. اهـ. (الدر المختار و حاشية ابن عابدين 4/359)
وَإِذَا رَأَى حَشِيشَ الْمَسْجِدِ فَرَفَعَهُ إنْسَانٌ جَازَ إنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ قِيمَةٌ فَإِنْ كَانَ لَهُ أَدْنَى قِيمَةٍ لَا يَأْخُذُهُ إلَّا بَعْدَ الشِّرَاءِ مِنْ الْمُتَوَلِّي أَوْ الْقَاضِي أَوْ أَهْلِ الْمَسْجِدِ أَوْ الْإِمَامِ (البحر الرائق 5/271)
جب مدرسہ ومسجد دونوں کیلئے مخلوط طور پر وقف کیا ہے تو دوکانوں کی آمدنی میں سے مدرسہ میں بھی اور مسجد میں بھی اور دونو کی تعمیر میں بھی خرچ کرسکتا ہے ۔ اسلئے کہ یہ غرض واقف کے خلاف نہیں ہے (فتاوی قاسمیہ 18/221)
مدرس کو مدرسہ کی تنخواہ مسجد کے فنڈ سے دینا اس وقت درست ہے جبکہ مدرسہ مسجد کے نظام کے تحت چلتا ہو یا مسجد مدرسہ کے نظام کے تحت چلتی ہو اور دونو کا نظام ذمہ دار کے ما تحت ہو (فتاوی قاسمیہ 18/220)
غیر ضروری سامان بیچ کر مسجد کہ دیگر ضروریات پوری کرنا درست ہے (کتاب النوازل 13/457)
جو سامان وہاں نہیں لگ سکتا اس کو فروخت کرکے قیمت تعمیر مسجد میں خرچ کردیں، یعنی اس قیمت کا سامان اس مسجد میں لگادیں (فتاوی محمودیہ 21/284)
ایک مسجد کے لیے وقف شدہ رقم دوسری مسجد میں لگانا
ایک شخص نے گاؤں ”الف“ کی مسجد کے لیے کچھ رقم وقف کر کے مسجد کے پیش امام صاحب کے پاس رکھ دی۔ اب امام اور مقتدیوں میں اختلاف پیدا ہوا ہے۔ جس کی وجہ سے امام صاحب نے یہ ارادہ کیا ہے کہ یہ رقم گاؤں
ب“ کی مسجد کی تعمیر پر خرچ کی جائے۔ کیا اس طرح ایک مسجد کی وقف شدہ رقم دوسری مسجد کی تعمیر میں لگانا جائز ہے؟
الجواب وبالله التوفيق:
فقہائے کرام کی تصریحات کے مطابق جب دو علیحدہ علیحدہ مسجدمیں ہوں اور ان میں سے کسی ایک مسجد کے لیے رقم وقف کی گئی ہو تو دوسری مسجد میں اُسے استعمال کرنا جائز نہیں۔ صورت مذکورہ میں اگر دونوں مساجد کی آمدنی جدا جدا ہو اور آپس میں دونوں کا کوئی تعلق نہ ہو جیسا کہ سوال سے ظاہر ہے، تو ایک مسجد کے لیے وقف شدہ رقم دوسری مسجد کی تعمیر میں خرچ کرنا جائز نہیں۔
والدليل على ذلك:
وإن اختلف أحدهما، بأن بنى رجلان مسجدين أو رجل مسجدا ومدرسة، ووقف عليهما (الدر المختار و حاشية ابن عابدين 6/551)
ایک مقصد کے لیے جمع شدہ رقم دوسرے مقصد میں استعمال کرنا
طلبہ سکاؤٹ نے سندھ کے سیلاب زدگان کی امداد کے لیے لوگوں سے چندہ جمع کیا جس کو بر وقت ان لوگوں تک نہیں پہنچایا جاس_کا، اب حکومت نے سندھ اور بلوچستان کے قحط زدہ علاقوں کے لوگوں کی امداد کے لیے سکاؤٹ کے طالب علموں کے ذریعے چندہ مہم شروع کی ہے۔ کیا وہ سابقہ رقم ان قحط زدہ علاقوں میں بھیجی جاسکتی ہے؟ یا اس رقم کو صرف سیلاب سے متاثرہ صوبہ سندھ کے افراد تک پہنچانا ہوگا ؟
الجواب وبالله التوفيق
جس مقصد کے لیے لوگوں سے چندہ وصول کیا جائے ، اس کو اس مقصد میں استعمال کرنا چاہیے۔ اس میں تغییرمعلوم ہوتی ہے، کیوں کہ چندہ دینے والوں کا مقصد مصیبت زدہ عوام کی امداد کرنا ہے، جو دونوں صورتوں میں پورا ہوتا ہے۔
و تبدیل سے اجتناب ضروری ہے، تاہم ایسی تغییر و تبدیل جو اصولاً چندہ دہندہ کے منشا کے خلاف نہ ہو، جائز ہے۔ لہذا صورت مسئولہ میں اگر یہ چندہ قحط زدہ علاقوں کے لوگوں کی امداد کے لیے بھیج دیا جائے تو اس کی گنجائش معلوم ہوتی ہے، کیوں کہ چندہ دینے والوں کا مقصد مصیبت زدہ عوام کی امداد کرنا ہے، جو دونوں صورتوں میں پورا ہوتا ہے۔
والدليل على ذلك:
شرط أن يتصدق بفاضل الغلة على من يسأل في مسجد كذا كل يوم لم يراع شرطه، فللقيم التصدق على سائل غير ذلك المسجد، أو خارج المسجد، أو على من لا يسأل (غمز عيون الابصار شرح الاشباه والنظائر 2/108)
وقف املاک کی زائد آمدنی دوسری جگہ خرچ کرنا
الجواب وبالله التوفيق:
شرعی نقطہ نظر سے جب کسی چیز کا وقف تام ہو جائے اور واقف اس چیز کو متولی کے حوالہ کرے تو متولی کے لیے
اس موقوفہ چیز کے استعمال کرنے میں واقف کی جہت وقف کا لحاظ رکھنا ضروری ہے اور جب تک کسی بھی صورت میں
موقوفہ چیز نفس موقوف علیہ کے مفاد میں استعمال کرنا ممکن ہو، اس وقت تک وقف چیز کوکسی دوسرے مصرف میں استعمال کرنا جائز نہیں، البتہ اگر موقوفہ چیز کا اُس مصرف میں استعمال ممکن نہ ہو تو پھر اس کو وقف کے مصالح میں استعمال کرنا چاہیے۔ اگر ایسی صورت حال در پیش ہو کہ اوقاف کی آمدنی متعینہ مصارف سے زائد ہو تو پھر متولی یا حاکم وقت مصلحت کی بنا پر دوسرے رفاہی اداروں اور تعلیمی سرگرمیوں میں خرچ کر سکتا ہے تا کہ وقف شدہ اموال اور جائیداد ضائع ہونے سے بچ سکے۔
لہذا اسلامیہ کالج کی موجودہ جائیداد کو کسی دوسرے ادارے یا کسی شخص کو ہبہ کرنا ، اس کو بیچنا، اس کو رہن میں
رکھنا جائز نہیں، البتہ اگر اس کی زائد آمدنی کے ضائع ہونے یا غلط ہاتھوں میں پہنچنے کا ظن غالب ہو تو متولی اس زائد آمدنی
کو دوسرے وقف اداروں میں یا دوسرے کارِ خیر میں صرف کر سکتا ہے۔
والدليل على ذلك:
فإذا تم ولزم لا يُملك ولا يملك، ولا يعار، ولا يرهن قال ابن عابدين: قوله (لا يملك) أي لا يكون مملوكا لصاحبه، ولا يملك أي لا يقبل التمليك لغيره بالبيع ونحوه (الدر المختار و حاشية ابن عابدين 6/539)
۔ علامہ ابن عابدین لا یملک کا معنی بیان کرتے ہیں کہ: مالک کی مملوک نہیں رہتی ۔ اور لا یملک کا معنی بیان کرتے ہیں کہ دوسرے کو بیع وغیرہ کے ذریعے اس کا مالک نہیں بنایا جا سکتا۔
ولاسيمــافـي زمــانـنــا، فإن المسجد أو غيره من رباط، أو حوض إذالم ينقل يأخذ أنقاضه اللصوص والمتغلبون كما هو مشاهد (الدر المختار و حاشية ابن عابدين 6/550)
(فتاوی عثمانیه 9/375)
ALLAH TA’ALA ALONE IN HIS INFINITE KNOWLEDGE KNOWS BEST!
ANSWERED BY:
Mufti Abdul Kader Fazlani
Date: 07 Jumaadal-Aakhirah 1447 / 28 November 2025
CHECKED AND APPROVED BY:
Mufti Yacoob Vally Saheb
