Preferable Time of Fajr Salaah

Jul 22, 2025 | Salaah

QUESTION:

Is it allowed for a Hanafi Masjid which has a majority of Shafi’ee Musallis to pray Fajr in darkness (Ghalas) instead of brightness (Isfaar) to accommodate their congregation?

ANSWER:

According to the Hanafi Madhab, it is preferable to perform Salaah when it is bright (Isfaar). The reason that is cited by the Jurists (Fuqaha) is due to the hope of there being a larger Jamaat as opposed to Salaah being performed when the time just enters i.e. in darkness (Ghalas). Hence, if majority of the Musallees of this particular Masjid are Shaafi’ees who would wish to perform their Salaah in darkness (Ghalas), then it will be preferable to perform the Fajr Salaah in darkness (Ghalas) so that the Jamaat would be larger. This will also accommodate them.

فكل صلاة في أول اسمها (عين) تعجل، وما ليس في أول اسمها (عين) تؤخر (بدائع الصنائع 1/126)

نماز فجر غلس میں پڑھنے کا حکم سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں : نماز فجر محلہ کی مسجد میں روزانہ کی عادت بنا کر غلس میں پڑھنا کیا ہے؟

الجواب وبالله التوفيق: نماز کی جماعت میں تکثیر جماعت اہم مقصد میں ہے، جس وقت نماز پڑھنے میں نمازیوں کی تعداد بڑھ جاتی ہو اس وقت نماز پڑھنا زیادہ افضل اور بہتر ہے، جیسا کہ رمضان میں غلس میں نماز پڑھنے کی صورت میں تکثیر جماعت ہوتی ہے، لہذا جس مسجد کے بارے میں سوال کیا گیا ہے، اگر اس مسجد میں غلس میں نماز پڑھنے سےنمازیوں کی کثرت ہوتی ہے، تو غلس میں نماز پڑھنا افضل ہوگا۔ اور جن مساجد می غلس میں نماز پڑھنے سے نمازیوں کی تعداد گھٹ جاتی ہو، وہاں اسفار میں نماز پڑھنا زیادہ افضل ہوگا ، عام مساجد میں غلس میں شروع کر کے اسفار میں ختم کیا جائے تو یہ افضل ے تا کہ نماز فجر میں دور نبوت اور دور صحابہ کی طرح لمبی قراءت کے ساتھ نماز پڑھی جاسکے، امام طحاوی نے اس کو ترجیح دی ہے، بشرطیکہ ضعیف کمزور اور معذور لوگ نمازیوں میں نہ ہوں، اور ضعیف کمزور اور معذور لوگ بھی شامل ہوں تو مختصر قراءت کرنے کا حکم ہے اور ایسی صورت میں حنفیہ کے مشہور قول کے مطابق اسفار میں شروع کر کے اسفار میں ختم کرنا افضل ہے۔

عن رافع بن خديج قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: أسفروا بالفجر، فإنه أعظم للأجر.

(ترمذي رقم # 154)

فالذي ينبغي الدخول في الفجر في وقت التغليس والخروج منها في وقت الإسفار على موافقة ما روينا عن رسول الله الله وأصحابه وهو قول أبي حنيفة، وأبي يوسف، ومحمد بن الحسن

(طحاوي، كتاب الصلوة، باب الوقت الذي يصلي فيه الفجر 1/136)

فلو اجتمع الناس اليوم أيضا في التغليس لقنا به أيضا كما في المبسوط السرخسي في باب التيمم أنه يستحب التغليس في الفجر ….. إذا اجتمع الناس

(فیض الباري، كتاب مواقيت الصلوة 2/136)

(فتاوی قاسميہ 5/272)

 ALLAH TA’ALA ALONE IN HIS INFINITE KNOWLEDGE KNOWS BEST!

ANSWERED BY:

Mufti Abdul Kader Fazlani

Date: 24 Muharram 1447 / 20 July 2025

CHECKED AND APPROVED BY:

Mufti Yacoob Vally Saheb

 

 

 

 

 

 

 

 

Categories