Signing A Talaaq Document

Aug 25, 2026 | Talaaq (Divorce)

سؤال:

میرا ایک نہایت اہم اور حساس مسئلہ ہے، براہِ کرم مکمل صورتِ حال پڑھ کر قرآن و سنت اور معتبر فقہی دلائل کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔
میرے شوہر نے غصے/اختلاف کی صورت میں طلاق سے متعلق ایک تحریری دستاویز/اسٹامپ پیپر پر یہ الفاظ لکھے کہ “Talaaq upon my wife” اور اس میں تین طلاق کا معاملہ درج کیا گیا۔ زبانی طور پر انہوں نے میرے سامنے تین مرتبہ طلاق کے الفاظ نہیں کہے، اور نہ ہی میں نے ان کی زبان سے تین طلاق سنی۔ یہ معاملہ پہلی مرتبہ پیش آیا ہے، اس سے پہلے ہمارے درمیان اس طرح کا کوئی واقعہ نہیں ہوا۔
شوہر کا کہنا ہے کہ ان کی نیت طلاق دینے کی نہیں تھی/وہ یہ فیصلہ اپنی طرف سے طلاق نافذ کرنے کی نیت سے نہیں کر رہے تھے، بلکہ وہ دوسروں کی باتوں اور حالات کے اثر میں آکر یہ تحریر کر بیٹھے۔ اس لیے براہِ کرم تحریری الفاظ، نیت، حالات اور طریقۂ طلاق کو سامنے رکھتے ہوئے حکم بیان فرمایا جائے۔
میرا اصل سوال یہ ہے کہ اگر ایک ہی موقع/ایک ہی مجلس میں تین طلاقیں دی یا لکھی جائیں تو شرعاً وہ تین طلاقیں شمار ہوں گی یا ایک طلاق؟
مجھے معلوم ہے کہ اس مسئلے میں اہلِ علم کے درمیان اختلاف موجود ہے۔ بعض فقہاء کے نزدیک ایک مجلس کی تین طلاقیں تین شمار ہوتی ہیں، جبکہ بعض اہلِ علم کے نزدیک ایک مجلس میں دی گئی تین طلاقیں ایک رجعی طلاق شمار ہوتی ہیں۔ براہِ کرم دونوں اقوال کے دلائل کا جائزہ لے کر یہ بھی بتائیں کہ میرے مخصوص معاملے میں کون سا حکم لاگو ہوگا۔
مزید یہ کہ اگر شرعی طور پر اسے ایک رجعی طلاق قرار دیا جائے تو کیا عدت کے اندر میرے شوہر کے لیے رجوع کی گنجائش موجود ہے؟ اور اگر دونوں میاں بیوی صلح اور ازدواجی زندگی بحال کرنا چاہتے ہوں تو شرعی طریقہ کیا ہوگا؟
ایک اور اہم بات یہ ہے کہ طلاق کے وقت میری ماہواری کی حالت کے بارے میں مجھے اب یقین سے یاد نہیں کہ میں حیض میں تھی یا پاکی کی حالت میں۔ کیا اس صورت میں صرف شک کی بنیاد پر کوئی حکم لگایا جائے گا، یا اس کے لیے کوئی اصول ہے؟
میری عدت 20 جون 2026 سے شروع ہوئی تھی اور اس وقت عدت کا کچھ حصہ باقی ہے۔ اس لیے براہِ کرم اگر رجوع کی شرعی گنجائش موجود ہو تو اس کا واضح طریقہ بھی بتا دیں۔
میں کسی خاص مسلک یا رائے کو ثابت کروانا نہیں چاہتی، بلکہ صرف یہ جاننا چاہتی ہوں کہ میرے مکمل واقعے میں شرعاً کیا حکم بنتا ہے۔ اگر دونوں معتبر اقوال میں سے کسی قول پر عمل کی گنجائش میرے معاملے میں موجود ہو تو براہِ کرم اس کی بھی وضاحت فرمائیں۔
اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے اور ہمارے لیے آسانی کا فیصلہ فرمائے۔

 

جواب:

چونکہ آپ کے شوہر نے اس دستاویز پر دستخط کیے جس میں تین طلاق لکھی تھیں، اس لیے تینوں طلاق واقع ہوں گی۔ مزید یہ کہ تین طلاق تین طلاق شمار ہوتی ہیں اگرچہ ایک ہی مجلس میں دی گئی تھیں۔ اس لیے اب آپ اپنے شوہر پر حرام ہیں۔ مزید یہ کہ حیض میں ہونے یا حیض نہ ہونے سے طلاق کے گرنے پر کوئی فرق نہیں پڑے گا کیونکہ حیض کی حالت میں دی گئی طلاق صحیح ہے اگرچہ شوہر ایسا کرنے سے گنہگار ہو گا۔

اپنے اختیار سے زید کا طلاق نامہ پر دستخط کرنا زبانی طلاق دینے کے قائم مقام ہے؛ لہٰذا طلاق نامہ کی عبارت کے مطابق بندہ پر طلاقِ مغلیظہ واقع ہو گئی۔ (کتاب النوازل 9/507)

وكذا التكلم بالطلاق ليس بشرط، فيقع الطلاق بالكتابة المستبينة، وبالإشارة المفهومة من الأخرس؛ لأن الكتابة المستبينة تقوم مقام اللفظ. (بدائع الصنائع / فصل في شرائط الركن ٤/ ٢١٥ )

وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو، ثم المرسومة لا تخلو إما إن أرسل الطلاق بأن كتب أما فانت طالق فكما كتب هذا يقع الطلاق وتلزمها العدة وقت الكتابة. (الفتاوى الهندية ٣٧٨/١)

ومشايخنا قالوا يقع به الطلاق عن غير نية لغلبة الاستعمال وعليه الفتوى (العناية 5/90)

وقوله عليه الصلاة والسلام: “ثلاث جدهن جد وهزلهن جد”: يدل على ذلك أيضًا؛ لأنه عليه الصلاة والسلام سوى بين الجاد والهازل، مع وجود الإرادة من أحدهما في إيقاع حكم اللفظ وعدمها من الآخر، مع كونهما من أهل التكليف،(شرح مختصر للطحطاوي 5/15)

أخبرنا سليمان بن داود أبو ربيع قال أنا بن وهب قال : أخبر رسول الله صلى الله عليه و سلم عن رجل طلق امرأته ثلاث تطليقات جميعا فقام غضبانا ثم قال أيلعب بكتاب الله وأنا بين أظهركم حتى قام رجل وقال يا رسول الله ألا أقتله (نسائى)

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللهِ ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ : كَانَ عُمَرُ إذَا أُتِيَ بِرَجُلٍ قَدْ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلاَثًا فِي مَجْلِسٍ ، أَوْجَعَهُ ضَرْبًا ، وَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا (مصنف ابن ابي شيبة)

ALLAH TA’ALA ALONE IN HIS INFINITE KNOWLEDGE KNOWS BEST!

ANSWERED BY:

Mufti Abdul Kader Fazlani

Date: 07 Rabi-ul-Awwal 1448 / 19 August 2025

Categories