Talaaq-Impotency
سؤال:
امید ہے کہ اپ حضرات خیریت سے ہوں گے شوہر کے نامرد ہونے کی صورت میں عدالتی خلع کی کیا صورت ہو سکتی ہے اس متعلق استفتاء مطلوب ہے براہ کرم شریعت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیے۔ میں جو کچھ لکھ رہی ہوں اللہ تعالی کو حاضر ناظر جان کے بالکل سچ سچ لکھ رہی ہوں۔
میری شادی کو تقریبا دو سال ہو چکے ہیں۔ میرے شوہر کینیڈا کے رہائشی ہے۔ نکاح اور رخصتی کے بعد سے آج تک ہمارے درمیان مکمل ازدواجی تعلق (دخول) قائم نہیں ہو سکا۔ شوہر متعدد بار کوشش کے باوجود دخول پر قادر نہ ہو سکے۔ شادی کے ابتدائی تقریباً دو ماہ پاکستان میں ساتھ گزارے، لیکن اس دوران بھی ازدواجی تعلق قائم نہ ہوا۔ شوہر مختلف عذر پیش کرتے رہے، مثلاً موسم، طبیعت، ذہنی کیفیت وغیرہ۔
بعد ازاں وہ کینیڈا واپس چلے گئے اور تقریباً نو ماہ بعد مجھے کینیڈا لے گئے۔ کینیڈا میں بھی صورتحال برقرار رہی۔ میں نے بارہا علاج کی درخواست کی لیکن شروع میں علاج کے لیے راضی نہ ہوئے بہرحال بہت منت سماجت کے بعد علاج کے لیے راضی ہوئے۔ مختلف ڈاکٹروں، فیملی فزیشنز اور دو یورولوجسٹ سے معائنہ کروایا گیا۔ ڈاکٹروں کے مطابق انہیں شدید Erectile Dysfunction کا مسئلہ ہے مختلف ادویات سے فائدہ نہ ہونے پر مستقل طور پر ازدواجی تعلق قائم کرنے کے وقت ہر بار انجیکشن استعمال کرنے کا مشورہ دیا گیا۔ اس کے علاوہ اور کوئی مستقل علاج اس چیز کا موجود نہیں شوہر نے علاج میں سنجیدگی نہیں دکھائی۔ جو کچھ علاج کروایا اس کا بھی کوئی فرق نظر نہیں ایا۔
اس دوران شوہر کی جانب سے ازدواجی حقوق کی ادائیگی میں مسلسل کوتاہی رہی۔ بیوی کا حق ادا کرنے کی طرف کوئی رجحان نہیں تها وہ عموماً اس مسئلہ پر گفتگو سے گریز کرتے، مجھے صبر کی تلقین کرتے اور بعض اوقات ناراضی کا اظہار کرتے۔
کینیڈا میں علاج کے مختلف طریقوں کا استعمال کرنے کے بعد جب کوئی خاص فرق نہ پڑا تو میں نے کوشش کی کہ وہ میرے ساتھ پاکستان علاج کے لیے اجاۓ لیکن وہ اس کے لیے ہرگز راضی نہ ہوئے اور کہا کہ اگر میں جانا چاہتی ہوں تو چلی جاؤں لیکن وہ ہرگز پاکستان نہیں ائیں گے۔
بالآخرص3 مئی 2026 میرے اور میرے والدین کے کہنے پر شوہر نے مجھے پاکستان واپس بھیج دیا کیونکہ میرا ان کے ساتھ رہنا صرف ان کو علاج کا موقع دینے کے لیے تھا اور جب علاج ہی ممکن نہیں تو میں اس طرح سے رہنے پہ ہرگز راضی نہیں تھی اور نہ ہوں ۔ شوہر نے بھی واضح الفاظ میں کہا کہ میں واپس نہ آؤں، اپنا تمام سامان سمیٹ لوں، وہ پاکستان نہیں آئیں گے، اور نہ ہی ہمارے درمیان ازدواجی زندگی جاری رکھنے پر آمادہ ہیں۔ یہ بھی کہا کہ میں اگے شادی کر لوں اور ان کا انتظار ہرگز نہ کرو۔
پاکستان آنے کے بعد سے انہوں نے مجھ سے کوئی بامعنی رابطہ نہیں کیا۔ میرے والدین اور دیگر رشتہ داروں نے معاملہ حل کرنے کی کوشش کی، لیکن شوہر اور ان کے گھر والوں نے رابطے محدود یا منقطع کر دیے ہمیں بلاک کر دیا۔ میں نے ان سے رابطے کرنے کی کوشش کی اور طلاق کا مطالبہ کیا شوہر طلاق دینے یا مستقبل کے بارے میں واضح فیصلہ کرنے سے بھی گریز کیا اور کوئی بامعنی جواب نہیں دیا ۔ بہرحال ان کے مامو کے ذریعے میرے والد نے واضح پیغام پہنچا دیا میں ان کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی وہ طلاق پہ تو راضی نہ ہوئے لیکن آپسی رضامندی سے خلع پر راضی ہو گئے اور خود ایک خلع کا ڈرافٹ بھیجا ہم نے ان کو لیگل پیپرز بھی بھجوا دیے لیکن اب وہ ہمیں جواب نہیں دے رہے اور اسے تقریبا مہینہ ہو گیا۔
تقریبا تین مہینے سے وہ نان نفقہ کا خرچ بھی ادا نہیں کر رہے اور مجھ سے کسی قسم کے رابطے میں بھی نہیں ہے۔میں اور میرے والدین اس وقت شدید تکلیف اور اذیت کا شکار ہیں انہوں نے مجھے لٹکا کر رکھا ہے۔اور اس میں میرے لیے بہت حرج ہے اور گناہ کا خدشہ ہے۔ میں اس رشتے میں مزید نہیں رہنا چاہتی اور اپنے اپ کو ان سے الگ کرنا چاہتی ہوں۔
میں نے عدالتی خلع سے متعلق بہت سے وکیلوں سے رابطہ کیا اور ان کا کہنا ہے کہ میں نا مردی کی وجہ سے اگر خلع کا کیس دائر کروں گی تو اس میں مجھے کافی حرج ہوگا اور کیس لمبا ہو جائے گا اور مخالف جانب سے بھی خوب کیچڑ اچھالا جائے گا۔ اور وہ اگے سے ہتک عزت کا کیس بھی کر سکتے ہیں۔ وکیلوں کا مشورہ یہ ہے کہ صرف اس بنیاد پر خلع لی جائے کہ میں اپنے شوہر کے ساتھ اب نہیں رہنا چاہتی۔
اس تمام صورتحال میں عدالتی خلع کا کیا طریقہ کار ہوگا جس میں میرے لیے اسانی کا معاملہ ہو اور کم سے کم حرج ہو اور شرعی نقطہ نظر سے بھی معتبر ہو۔
جواب:
سب سے پہلے، ہمیں شوہر کے درج ذیل بیان کی وضاحت درکار ہے:
یہ بھی کہا کہ آگے شادی کر لو اور ان کا ہرگز انتظار نہ کرو۔
یہ بات ذہن نشین رہے کہ شوہر کے اوپر بیان کرنے سے اگر شوہر طلاق کا ارادہ رکھتا ہو تو یہ ایک اٹل طلاق بن جائے گی۔ چونکہ الفاظ مبہم ہیں اس لیے آپ کو اپنے شوہر سے معلوم کرنا پڑے گا کہ اس کی نیت کیا تھی۔
مزید برآں، ہم مشورہ دیتے ہیں کہ بہتر ہو گا کہ آپ پاکستان میں کسی مقامی جمعیت یا دارالافتاء سے رابطہ کر لیں جو آپ کے شوہر سے رابطہ کرنے میں آپ کی مدد کرے گا تاکہ آپ اپنے شوہر کی اجازت سے گھر واپس آئیں اور آپ کی مرضی سے نہیں۔
آخر کار شوہر کے نامرد ہونے کی وجہ سے خلع کی درخواست کرنا شرعاً جائز ہے۔ اگر شوہر اب بھی طلاق نہ دینے پر اصرار کرتا ہے تو آپ مقامی جمعیت یا دارالافتاء سے اپنے نکاح کی فَسخ کرنے کی درخواست کر سکتے ہیں۔
عنين يعني نامرد ہونے کي صورت میں فسخ نکاح کي تفصیل: فقہائے کرام کی اصطلاح میں عنّین اس شخص کو کہتے ہیں جو عضوِ مخصوص ہونے کے باوجود عورت سے جماع کرنے پر قادر نہ ہو، خواہ یہ حالت کسی مرض کی وجہ سے پیدا ہوئی ہو یا ضعف کی وجہ سے یا بڑھاپے کی وجہ سے یا اس وجہ سے کہ کسی نے اس پر جادو کیا ہو۔ جو شخص بعض عورتوں سے جماع کرنے پر قادر ہو اور بعض پر نہیں تو جس سے ہم بستری پر قدرت نہ ہو، اس کے حق میں یہ شخص عنّین سمجھا جائے گا۔
نکاح فسخ کرنے کا طریقہ کار:اگر عورت اپنا معاملہ قاضی کی عدالت میں پیش کرے تو قاضی شوہر سے دریافت کرے، اگر وہ خود اقرار کرلے کہ بے شک میں اس عورت سے ہم بستری پر قادر نہیں تو اس کو ایک سال کی مہلت علاج کرنے کے لیے دے دے اور اگر وہ اقرار نہ کرے، بلکہ جماع کا دعویٰ کرے اور اس پر قسم بھی کھائے تو عورت اگر باکرہ نہ ہو تو شوہر کی بات مانی جائے گی، اگر عورت باکرہ ہو اور ایک یا دو عورتیں بکارت کی گواہی دیں یا شوہر قسم کھانے سے انکار کر دے تو پھر قاضی اس کو ایک سال کی مہلت علاج کے لیے دے دے گا، اگر اس دوران وہ جماع پر قادر ہوا اور ایک مرتبہ بھی جماع کر لیا تو عورت کے لیے فسخِ نکاح کا حق باقی نہیں رہا، بلکہ ہمیشہ کے لیے یہ حق باطل ہو گیا اور اگر اس عرصہ میں ایک مرتبہ بھی جماع نہ کر سکا تو عورت کی دوبارہ درخواست پر قاضی تحقیق کرے گا، اگر واقعی شوہر جماع کا قابل نہ ہو تو اس سے طلاق دلوائی جائے گی اور اگر وہ انکار کر دے تو خود قاضی تفریق کر دے گا۔ مذکورہ طلاق یا تفریق دونوں طلاق بائن کے حکم میں ہیں۔
فسخِ نکاح کی شرائط:زوجہ عنّین کو شوہر سے علیحدگی کا اختیار چند شرائط کے ساتھ حاصل ہوسکتا ہے:
(1) نکاح سے پہلے اس کو اپنے شوہر کی نامردی کا علم نہ ہو۔
2) نکاح کے بعد ایک مرتبہ بھی اس عورت سے جماع نہ کیا ہو
3) جس وقت سے عورت کو شوہر کے عنین ہونے کی خبر ہوئی ہے، اس وقت سے عورت نے اس کے ساتھ رہنے پر رضا کی تصریح نہ کی ہو، محض سکوت یہاں پر رضا نہیں سمجھی جائے گی۔
4) سال بھر کی مدت گزرنے کے بعد جب قاضی عورت کو اختیار دے تو عورت اسی مجلس میں تفریق کو اختیار کرے۔ 5) اگر اسی مجلس میں اس نے اپنے خاوند کے ساتھ رہنا پسند کیا یا اس قدر سکوت کیا کہ مجلس ختم ہوگئی تو اس کا خیار باطل ہو جائے گا۔
5) عنین کو سال بھر کی مہلت دینا، عورت کو اختیار دینا سب قاضی کا کام ہے۔ قاضی کے بغیر از خود کسی اور کو تفریق کا اختیار نہیں۔
(فتاویٰ عثمانیہ 6/302)
الكنايات (لا تطلق بها) قضاء (الا بنية او دلالة الحال فنحو اخرجي واذهبي وقومي) …. (وفي الغضب) توقف(الاولان)ان نوى وقع والا لا (وفي مذاكرة الطلاق) يتوقف (الأول فقط) )الدر المختار 4/528)
لَا نَفَقَةَ لِأَحَدِ عَشْرَ : …وَ خَارِجَةٌ مِنْ بَيْتِهِ بِغَيْرِ حَقٍّ وَهِيَ النَّاشِزَةُ حَتَّى تَعُودَ )الدر المحتار 5/286)
وكذلك المرأة إذا وجدت زوجها عنينا أو مجبوبا يثبت لها الخيار (المبسوط للسرخسي 5/97)
والأولى ما في البحر وهو إزالة ملك النكاح المتوقفة على قبولها بلفظ الخلع أو في معناه (مجمع الأنهر 1/759)
وادعت أنه عنين، وطلبت الفرقة، فإن القاضي يسأله هل وصل إليها أو لم يصل؟ فإن أقر أنه لم يصل أجله سنة سواء كانت المرأة بكرا أو ثيبا، وإن أنكر، وادعى الوصول إليها، فإن كانت المرأة ثيبا، فالقول قوله مع يمينه أنه وصل إليها؛ لأن الثيابة دليل الوصول في الجملة (بدائع الصنائع ص323 ج2)
ALLAH TA’ALA ALONE IN HIS INFINITE KNOWLEDGE KNOWS BEST!
ANSWERED BY:
Mufti Abdul Kader Fazlani
Date: 05 Rabi-ul-Awwal 1448 / 18 August 2026
CHECKED AND APPROVED BY:
Mufti Yacoob Vally Saheb
