Wearing A Bow Tie
QUESTION:
Is it permissible to wear a bow tie?
ANSWER:
It is Makrooh (disliked) for a Muslim to wear a bow tie, since it does not resemble the dress of the pious. Therefore, it should be avoided.
النهي عنها من أجل التشبه بالأعاجم فهو لمصلحة دينية؛ لكن كان ذلك شعارهم حينئذ وهم كفار ، ثم لما لم يصر الآن يختص بشعارهم، زال ذلك المعنى، فتزول الكراهة.
(تكملة فتح الملهم ٩٣/٤ مكتبة دار العلوم کراچی)
ٹائی باندھنا ایک زمانہ میں عیسائیوں کا شعار اور اُن کی مخصوص علامت تھی، جس کی بنا پر غیر قوموں سے تشبہ کی وجہ سے مسلمانوں کے لئے اُس کے استعمال کو حرام کہا جاتا تھا؛ لیکن آج کل ٹائی لگانا صرف عیسائیوں کی علامت نہیں رہا؛ بلکہ مسلمان بھی بکثرت اُسے استعمال کرنے لگے ہیں: اس لئے آپ ٹائی لگانے کو حرام تو نہیں کہیں گے؛ البتہ مکرو ہ ضرور کہا جائے گا؛ کیوں کہ یہ صالحین کے لباس میں داخل نہیں ہے
(كتاب النوازل 15/345-346)
ALLAH TA’ALA ALONE IN HIS INFINITE KNOWLEDGE KNOWS BEST!
ANSWERED BY:
Mufti Muhammad Isa Ali
Date: 01 Rabi-ul-Awwal 1447 / 25 August 2025
CHECKED AND APPROVED BY:
Mufti Yacoob Vally Saheb
